رقص میں رات ہے بدن کی طرح

رقص میں رات ہے بدن کی طرح
بارشوں کی ہوا میں بن کی طرح

چاند بھی میری کروٹوں کا گواہ
میرے بستر کی ہر شکن کی طرح

چاک ہے دامن قبائے بہار
میرے خوابوں کے پیرہن کی طرح

زندگی، تجھ سے دور رہ کر، میں
کاٹ لوں گی جلا وطن کی طرح

مجھ کو تسلیم، میرے چاند کہ میں
تیرے ہمراہ ہوں گہن کی طرح

بار ہا تیرا انتظار کیا
اپنے خوابوں میں اک دلہن کی طرح

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s